ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار بندر کے توسیعی منصوبے کے خلاف زبردست عوامی احتجاج

کاروار بندر کے توسیعی منصوبے کے خلاف زبردست عوامی احتجاج

Thu, 01 Mar 2018 20:20:25    S.O. News Service

کاروار یکم مارچ (ایس او نیوز) کاروار بندر کی ترقی کے لئے دوسرے مرحلے کی توسیع کا جو منصوبہ سرکارکی جانب سے بنایا گیا ہے اس کے خلاف پارٹی اور ذات پات کے مفادات سے بالاتر ہوکر عوامی طور پر ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم سونپاگیا ۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق کاروار کنزرویشن فورم کے زیر سایہ پچاس سے زائداداروں اور تنظیموں نے اس مظاہرے میں حصہ لیا۔متر سماج میدان سے شروع ہونے والے اس احتجاجی ریالی کا آغاز کرتے ہوئے کنڑا روزنامے کراولی منجاؤ کے منیجنگ ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی نے کہا کہ تعمیری منصوبوں کے نام پرکاروار کے قدرتی حسن اور نظاروں کو قربان کیا جارہا ہے۔اب دنیا بھر میں مشہور ٹیگور بیچ کو برباد کیا جانے والا ہے اس لئے عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کو قدرتی حالت میں بچائے رکھنے کے لئے جدوجہد کریں اور پارٹیوں اور ذات پات سے بلند ہوکر اس کے خلاف احتجاج کریں۔ایم ایل اے ستیش سائیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت کا نمائندہ ہونے کے باوجود عوامی مفاد کے پیش نظر اس منصوبے کی مخالفت میں کھڑا ہوں اور اس کے خلاف احتجاج کے لئے ہروقت میں عوام کے ساتھ رہوں گا۔ضلع انتظامیہ کو چاہیے کہ عوام اور ماہی گیروں کے مسائل کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کے جذبات کی قدر کرنی چاہیے اور یہاں کے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچانے والے منصوبوں سے باز آنا چاہیے۔سابق ایم ایل اے آنند اسنوٹیکر نے بھی پارٹی وابستگی چھوڑ کر اس عوامی احتجاج میں سب کے شریک ہونے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ ماہی گیروں کے لیڈر پی ایم تانڈیل نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے نام پر دیسی طرز کے ماہی گیروں کو ہراساں کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔

انکولہ اور کاروار کے مختلف علاقوں سے احتجاج میں شریک مظاہرین نے بندر کے توسیعی منصوبہ رد کرنے اور ساحل کی خوبصورتی کو بچائے رکھنے سے متعلق نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس نکالا اور کچھ دیر تک ڈی سی دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے میمورنڈم وصول کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جذبات کے سلسلے میں وہ حکومت کو آگاہی دیں گے۔اس مظاہرے میں مختلف تنظیموں کے رضاکاروں کے علاوہ عہدیداران اور سوشیل ورکروں نے حصہ لیا۔ احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لئے مچھلی مارکیٹ کو مکمل طور پر بند رکھاگیا اور ماہی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے مظاہرے میں شرکت کی۔


Share: